Dua Nudba

Dua Nudba Full Dua  Arabic Text, Meaning, Benefits & FAQs

Dua Nudba is a deeply emotional and spiritually powerful supplication recited by believers to express longing for Allah’s chosen representatives and heartfelt grief over their absence. Known for its moving words and strong connection to hope, patience, and divine guidance, this sacred dua reminds us of the continuous bond between faith, sacrifice, and justice.

Recited especially on Fridays and blessed occasions, Dua Nudba awakens the soul, strengthens belief in divine promise, and renews the yearning for truth, mercy, and the reappearance of Imam al-Mahdi (عج). Through its profound verses, this dua invites reflection, humility, and a deeper connection with Allah, making it a timeless source of spiritual comfort and guidance.

Dua Nudba PDF

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ نَبِيِّهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْلِيمًا.

اَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَىٰ مَا جَرَىٰ بِهِ قَضَاؤُكَ فِي أَوْلِيَائِكَ الَّذِينَ اسْتَخْلَصْتَهُمْ لِنَفْسِكَ وَدِينِكَ، إِذِ اخْتَرْتَ لَهُمْ جَزِيلَ مَا عِنْدَكَ مِنَ النَّعِيمِ الْمُقِيمِ الَّذِي لَا زَوَالَ لَهُ وَلَا اضْمِحْلَالَ، بَعْدَ أَنْ شَرَطْتَ عَلَيْهِمُ الزُّهْدَ فِي دَرَجَاتِ هٰذِهِ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ وَزُخْرُفِهَا وَزِبْرِجِهَا، فَشَرَطُوا لَكَ ذٰلِكَ، وَعَلِمْتَ مِنْهُمُ الْوَفَاءَ بِهِ، فَقَبِلْتَهُمْ وَقَرَّبْتَهُمْ، وَقَدَّمْتَ لَهُمُ الذِّكْرَ الْعَلِيَّ، وَالثَّنَاءَ الْجَلِيَّ، وَأَهْبَطْتَ عَلَيْهِمْ مَلَائِكَتَكَ، وَكَرَّمْتَهُمْ بِوَحْيِكَ، وَرَفَدْتَهُمْ بِعِلْمِكَ، وَجَعَلْتَهُمُ الذَّرِيعَةَ إِلَيْكَ، وَالْوَسِيلَةَ إِلَىٰ رِضْوَانِكَ.

فَبَعْضٌ أَسْكَنْتَهُ جَنَّتَكَ، إِلَىٰ أَنْ أَخْرَجْتَهُ مِنْهَا، وَبَعْضٌ حَمَلْتَهُ فِي فُلْكِكَ وَنَجَّيْتَهُ وَمَنْ آمَنَ مَعَهُ مِنَ الْهَلَكَةِ بِرَحْمَتِكَ، وَبَعْضٌ اتَّخَذْتَهُ لِنَفْسِكَ خَلِيلًا، وَسَأَلَكَ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ فَأَجَبْتَهُ، وَجَعَلْتَ ذٰلِكَ عَلِيًّا، وَبَعْضٌ كَلَّمْتَهُ مِنْ شَجَرَةٍ تَكْلِيمًا، وَجَعَلْتَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ رِدْءًا وَوَزِيرًا، وَبَعْضٌ أَوْلَدْتَهُ مِنْ غَيْرِ أَبٍ، وَآتَيْتَهُ الْبَيِّنَاتِ، وَأَيَّدْتَهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ.

وَكُلٌّ شَرَعْتَ لَهُ شَرِيعَةً، وَنَهَجْتَ لَهُ مِنْهَاجًا، وَتَخَيَّرْتَ لَهُ أَوْصِيَاءَ، مُسْتَحْفِظًا بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ، مِنْ مُدَّةٍ إِلَىٰ مُدَّةٍ، إِقَامَةً لِدِينِكَ، وَحُجَّةً عَلَىٰ عِبَادِكَ، لِئَلَّا يَزُولَ الْحَقُّ عَنْ مَقَرِّهِ، وَيَغْلِبَ الْبَاطِلُ عَلَىٰ أَهْلِهِ، وَلِئَلَّا يَقُولَ أَحَدٌ: لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا مُنْذِرًا، وَأَقَمْتَ لَنَا عَلَمًا هَادِيًا.

حَتَّىٰ انْتَهَيْتَ بِالْأَمْرِ إِلَىٰ حَبِيبِكَ وَنَجِيبِكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، فَكَانَ كَمَا انْتَجَبْتَهُ، سَيِّدَ مَنْ خَلَقْتَهُ، وَصَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَيْتَهُ، وَأَفْضَلَ مَنِ اجْتَبَيْتَهُ، وَأَكْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَهُ.

ثُمَّ جَعَلْتَ أَجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَآلِهِ، مَوَدَّتَهُمْ فِي كِتَابِكَ، فَقُلْتَ:

﴿قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ﴾.

فَكَانُوا هُمُ السَّبِيلَ إِلَيْكَ، وَالْمَسْلَكَ إِلَىٰ رِضْوَانِكَ.

فَلَمَّا انْقَضَتْ أَيَّامُهُ أَقَامَ وَلِيَّهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِمَا وَآلِهِمَا هَادِيًا، إِذْ كَانَ هُوَ الْمُنْذِرَ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ.

اَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ.

اَيْنَ الْحَسَنُ؟ اَيْنَ الْحُسَيْنُ؟

اَيْنَ أَبْنَاءُ الْحُسَيْنِ؟ صَالِحٌ بَعْدَ صَالِحٍ، وَصَادِقٌ بَعْدَ صَادِقٍ؟

اَيْنَ السَّبِيلُ بَعْدَ السَّبِيلِ؟

اَيْنَ الْخِيَرَةُ بَعْدَ الْخِيَرَةِ؟

اَيْنَ بَقِيَّةُ اللَّهِ الَّتِي لَا تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الْهَادِيَةِ؟

اَيْنَ الْمُنْتَظَرُ لِإِقَامَةِ الْأَمْتِ وَالْعِوَجِ؟

اَيْنَ الْمُرْتَجَىٰ لِإِزَالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوَانِ؟

بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَنَفْسِي لَكَ الْوِقَاءُ وَالْحِمَىٰ.

لَيْتَ شِعْرِي أَيْنَ اسْتَقَرَّتْ بِكَ النَّوَىٰ، بَلْ أَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّكَ أَوْ ثَرَىٰ؟

عَزِيزٌ عَلَيَّ أَنْ أَرَى الْخَلْقَ وَلَا تُرَىٰ، وَلَا أَسْمَعُ لَكَ حَسِيسًا وَلَا نَجْوَىٰ.

بِنَفْسِي أَنْتَ مِنْ مُغَيَّبٍ لَمْ يَخْلُ مِنَّا، بِنَفْسِي أَنْتَ مِنْ نَازِحٍ مَا نَزَحَ عَنَّا.

اَللَّهُمَّ عَجِّلْ فَرَجَهُ، وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ، وَاجْعَلْنَا مِنْ أَنْصَارِهِ وَأَعْوَانِهِ وَالْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ.

Dua Nudba Urdu Translation

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، بار بار رحم فرمانے والا ہے۔

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اور درود و سلام ہو ہمارے سردار حضرت محمد ﷺ اور آپ کی آل پر۔

اے اللہ! تمام حمد تیرے لیے ہے اس فیصلے پر جو تو نے اپنے اُن خاص بندوں کے بارے میں فرمایا جنہیں تو نے اپنے لیے اور اپنے دین کے لیے چن لیا۔ تو نے ان کے لیے اپنے پاس ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو منتخب کیا، جن میں نہ کوئی زوال ہے اور نہ فنا، اس کے بعد کہ تو نے ان پر شرط رکھی کہ وہ اس پست دنیا، اس کی ظاہری چمک دمک اور زیب و زینت سے بے رغبتی اختیار کریں۔ پس انہوں نے یہ شرط قبول کی، اور تو نے ان کی وفاداری کو جان لیا، تو نے انہیں قبول فرمایا، اپنے قریب کیا، ان کے لیے بلند ذکر اور واضح تعریف مقرر کی، ان پر اپنے فرشتے نازل کیے، انہیں اپنی وحی سے عزت بخشی، اپنے علم سے تقویت دی، اور انہیں اپنی طرف آنے کا ذریعہ اور اپنی رضا تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیا۔

پس ان میں سے کسی کو تو نے اپنی جنت میں بسایا، پھر وہاں سے نکالا؛ اور کسی کو اپنی کشتی میں سوار کیا اور اسے اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے ہلاکت سے بچایا؛ اور کسی کو تو نے اپنا دوست بنایا، اس نے تجھ سے آنے والوں میں سچائی کی زبان مانگی، تو نے اسے عطا فرمائی اور اسے بلند مقام دیا؛ اور کسی سے تو نے درخت کے ذریعے کلام کیا، اور اس کے بھائی کو اس کا مددگار اور وزیر بنایا؛ اور کسی کو بغیر باپ کے پیدا کیا، اسے واضح نشانیاں عطا کیں اور روح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرمائی۔

اور ہر ایک کے لیے تو نے ایک شریعت مقرر کی، ایک واضح راستہ بنایا، اور ان کے لیے جانشین منتخب کیے، ایک کے بعد ایک محافظ مقرر فرماتا رہا، زمانے کے بعد زمانے میں، تاکہ تیرا دین قائم رہے اور تیرے بندوں پر حجت باقی رہے، تاکہ حق اپنی جگہ سے نہ ہٹے اور باطل اپنے ماننے والوں پر غالب نہ آ جائے، اور تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ اگر تو ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا رسول اور ہدایت دینے والا علم نہ بھیجتا۔

یہاں تک کہ تو نے یہ امر اپنے محبوب اور برگزیدہ محمد ﷺ تک پہنچایا، تو وہ ایسے ہی تھے جیسے تو نے انہیں چنا، تمام مخلوق کے سردار، منتخب لوگوں کی صفوت، چنے ہوئے بندوں میں سب سے افضل، اور جنہیں تو نے اعتماد کے لائق بنایا ان میں سب سے زیادہ معزز۔

پھر تو نے محمد ﷺ کی مزدوری اپنی کتاب میں ان کی آل کی محبت کو قرار دیا، پس تو نے فرمایا:

“کہہ دیجئے! میں تم سے اس (رسالت) پر کوئی اجر نہیں مانگتا، سوائے قرابت داروں کی محبت کے۔”

پس وہی تیری طرف جانے کا راستہ اور تیری رضا تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔

پھر جب آپ ﷺ کے دن پورے ہو گئے تو آپ نے اپنے ولی علی بن ابی طالبؑ کو ہدایت دینے والا مقرر فرمایا، کیونکہ آپ ڈرانے والے تھے اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے۔

اے اللہ! جو ان سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو ان سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما، جو ان کی مدد کرے تو اس کی مدد فرما، اور جو انہیں چھوڑ دے تو اسے رسوا فرما۔

کہاں ہیں حسنؑ؟

کہاں ہیں حسینؑ؟

کہاں ہیں حسینؑ کی اولاد؟ ایک نیک کے بعد نیک، ایک سچے کے بعد سچا؟

کہاں ہے ہدایت کا راستہ، راستے کے بعد؟

کہاں ہیں برگزیدہ، ایک کے بعد ایک؟

کہاں ہے اللہ کی وہ باقی حجت جو ہدایت دینے والی عترت سے خالی نہیں؟

کہاں ہے وہ منتظر جو کجیوں اور ٹیڑھاپن کو سیدھا کرے؟

کہاں ہے وہ امید جس کے ذریعے ظلم و زیادتی مٹائی جائے؟

میرے ماں باپ اور میری جان آپ پر قربان ہو، آپ ہی میری پناہ اور حفاظت ہیں۔

کاش مجھے معلوم ہوتا کہ آپ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں؟ کون سی زمین آپ کو اٹھائے ہوئے ہے؟

میرے لیے یہ بہت سخت ہے کہ میں مخلوق کو دیکھوں مگر آپ نظر نہ آئیں، اور نہ آپ کی کوئی آہٹ سنوں نہ راز کی بات۔

میری جان آپ پر قربان، آپ ہم سے غائب ہو کر بھی ہم سے جدا نہیں، میری جان آپ پر قربان، آپ دور ہو کر بھی ہم سے دور نہیں۔

اے اللہ! ان کے ظہور میں جلدی فرما، ان کی آمد کو آسان فرما، اور ہمیں ان کے مددگاروں، ساتھیوں اور ان کے سامنے قربان ہونے والوں میں شامل فرما۔

Benefits of Dua Nudba

  • Strengthens faith and belief by reminding the heart of Allah’s divine plan and guidance.
  • Creates deep spiritual awareness and helps believers reflect on truth, patience, and justice.
  • Brings inner peace and emotional comfort, especially during times of stress or sadness.
  • Expresses sincere longing and devotion for Imam al-Mahdi (عج), strengthening love and loyalty.
  • Encourages patience and hope, reminding believers that relief comes at Allah’s perfect time.
  • Softens the heart and increases humility through heartfelt supplication.
  • Inspires righteous living and a stronger commitment to faith and good deeds.
  • Provides spiritual healing by allowing believers to express grief, trust, and hope together.

FAQs:

What is Dua Nudba?

Dua Nudba is a well-known Islamic supplication that expresses deep sorrow, love, and longing for Allah’s chosen leaders, especially Imam al-Mahdi (عج). It reflects hope, patience, and trust in Allah’s divine plan.

When is Dua Nudba usually recited?

Dua Nudba is most commonly recited on Fridays, as well as on special Islamic occasions and gatherings. Many believers recite it to spiritually connect with Imam al-Mahdi (عج) and renew their faith.

What are the spiritual benefits of Dua Nudba?

Reciting Dua Nudba helps soften the heart, increase spiritual awareness, and strengthen belief in justice and divine guidance. It also brings inner peace and deepens one’s connection with Allah.

Is Dua Nudba only for scholars or can anyone recite it?

Dua Nudba can be recited by anyone. It is a dua for all believers who seek closeness to Allah and wish to express their love and longing through sincere supplication.

Why is Dua Nudba emotionally powerful?

Dua Nudba touches the heart because it combines remembrance, grief, hope, and devotion. Its heartfelt words remind believers of patience during absence and trust in Allah’s promise of relief and guidance.

Conclusion:

Dua Nudba is a timeless and deeply moving supplication that touches the heart with hope, patience, and faith. Through its powerful words, it strengthens spiritual connection, renews love for divine guidance, and reminds believers to remain steadfast in times of waiting and trial. Reciting Dua Nudba regularly brings inner peace, deep reflection, and a renewed sense of trust in Allah’s promise, making it a valuable dua for anyone seeking spiritual comfort and closeness to Allah.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *