Mujhe Dar Pe Phir Bulana Heart-Touching Naat in Praise of Madani Madine Wale ﷺ
The heart-touching Naat “Mujhe Dar Pe Phir Bulana Madani Madine Wale” is a soulful cry from a devoted follower of Prophet Muhammad (ﷺ), yearning to once again be blessed with the spiritual serenity of Madina Munawwara. This deeply emotional Islamic kalam “Mujhe Dar Pe Phir Bulana Madani Madine Wale” beautifully captures the essence of Ishq-e-Rasool, as the lover pleads to return to the Darbar-e-Risalat, to feel the unmatched peace of Masjid-e-Nabawi, and to walk on the sacred streets where Rasoolullah (SAW) once walked. With its melodious rhythm and heartfelt Urdu poetry, this Naat becomes an instant favorite in Mehfil-e-Naat, Milad-un-Nabi gatherings, and Islamic spiritual events around the world.
Every verse of “Mujhe Dar Pe Phir Bulana” is filled with emotion, expressing a sincere desire to be spiritually reunited with the Madani Wale ﷺ. The repetition of the phrase “Phir Bulana” reflects not only longing but also complete submission and reliance on the mercy of the Messenger of Allah. Whether someone has visited Madina Sharif before or only dreams of setting foot in the City of Light, this Naat touches the hearts of all believers who carry deep love for Sayyiduna Muhammad Mustafa ﷺ. It serves as a reminder of our spiritual connection to the Prophet and the everlasting beauty of Madinah.
In a time where the world feels increasingly chaotic and the soul often feels distant from peace, naats like “Mujhe Dar Pe Phir Bulana Madani Madine Wale” offer spiritual healing. Its emotionally rich lyrics invite the listener to pause, reflect, and reconnect with their inner faith. More than just poetry, this Naat “Mujhe Dar Pe Phir Bulana Madani Madine Wale” is a heartfelt du’a a supplication to the beloved Prophet (SAW) to once again grant us his spiritual nearness, to protect us from worldly troubles, and to draw us closer to the light of Islam. It’s a powerful reminder that peace, love, and guidance begin at the feet of the Rahmatul-lil-Alameen the Mercy to the Worlds
Mujhe Dar Pe Phir Bulana Madani Madine Wale Lyrics in Urdu
مجھے در پہ پھر بلانا، مدنی مدینے والے
مجھے عشق بھی پلانا، مدنی مدینے والے
میری آنکھ میں سما جانا، مدنی مدینے والے
بن جائے دل تیرا ٹھکانہ، مدنی مدینے والے
تیری جب کے دید ہوگی، تبھی میری عید ہوگی
میرے خواب میں تم آنا، مدنی مدینے والے
مجھے سب ستا رہے ہیں، میرا دل دکھا رہے ہیں
تم ہی حوصلہ بڑھانا، مدنی مدینے والے
میرے سب عزیز چھوٹے، میرے یار بھی تو روٹھے
کہیں تم نہ روٹھ جانا، مدنی مدینے والے
میں اگرچہ ہوں کمینہ، تیرا ہوں شاہِ مدینہ
مجھے سینے سے لگانا، مدنی مدینے والے
تیرے در سے شاہ بہتر، تیرے آستاں سے بڑھ کر
ہے بھلا کوئی ٹھکانہ، مدنی مدینے والے
تیرا تجھ سے ہوں سوالی، شاہ! پھیرنا نہ خالی
مجھے اپنا تم بنانا، مدنی مدینے والے
یہ مریض مر رہا ہے، تیرے ہاتھ میں شفا ہے
اے طبیب جلد آنا، مدنی مدینے والے
تو ہی انبیاء کا سرور، تو ہی دو جہاں کا یاور
تو ہی رہبرِ زمانہ، مدنی مدینے والے
تو ہے بے کسوں کا یاور، اے میرے غریب پرور
ہے سخی تیرا گھرانہ، مدنی مدینے والے
تو خدا کے بعد بہتر، سبھی سے میرے سرور
تیرا ہاشمی گھرانہ، مدنی مدینے والے
تیری فرش پر حکومت، تیری عرش پر حکومت
تو شہنشاہِ زمانہ، مدنی مدینے والے
تیرے خلق سب سے اعلیٰ، تیرا حسن سب سے پیارا
فدا تجھ پہ سب زمانہ، مدنی مدینے والے
کہوں کس سے آہ جا کر، سنے کون میرے دلبر
میرے درد کا فسانہ، مدنی مدینے والے
باعطاءِ رب دائم، تو ہی رزق کا ہے قاسم
ہے تیرا سب آبو دانہ، مدنی مدینے والے
میں غریب بے سہارا، کہاں اور ہے گزارا
مجھے آپ ہی نبھانا، مدنی مدینے والے
یہ کرم بڑا کرم ہے، تیرے ہاتھ میں بھرم ہے
سرِ محشر بخشوانا، مدنی مدینے والے
کبھی جَو کی موٹی روٹی، تو کبھی کھجور پانی
تیرا ایسا سادہ کھانا، مدنی مدینے والے
ہے چٹائی کا بچھونا، کبھی خاک ہی پہ سونا
کبھی ہاتھ کا سرہانہ، مدنی مدینے والے
تیری سادگی پہ لاکھوں، تیری عاجزی پہ لاکھوں
ہو سلامِ عاجزانہ، مدنی مدینے والے
ملے نظر میں راحت، رہوں قبر میں سلامت
تو عذاب سے بچانا، مدنی مدینے والے
اے شفیعِ روزِ محشر! ہے گناہ کا بوجھ سر پر
میں پھنسا ہوں، مجھے بچانا، مدنی مدینے والے
گھپ اندھیری قبر میں جب، مجھے چھوڑ کر چلے سب
میری قبر جگمگانا، مدنی مدینے والے
میرے شاہ! وقتِ رخصت، مجھے میٹھا میٹھا شربت
تیری دید کا پلانا، مدنی مدینے والے
پسِ مرگ سبز گنبد، کی حضور ٹھنڈی ٹھنڈی
مجھے چھاؤں میں سلانا، مدنی مدینے والے
میرے والدین محشر میں، گو بھول جائے سرور
مجھے تم نہ بھول جانا، مدنی مدینے والے
شاہا! تنگی بڑی ہے، یہاں دھوپ بھی کڑی ہے
شاہِ حوضِ کوثر آنا، مدنی مدینے والے
مجھے آفتوں نے گھیرا، ہے مصیبتوں کا دائرہ
یا نبی مدد کو آنا، مدنی مدینے والے
کوئی اس طرف بھی پھیرا، ہو غموں کا دور اندھیرا
اے سراپا نور آنا، مدنی مدینے والے
کوئے پہ بخت ور گر، ہے شرف شاہی سے بڑھ کر
تیری نعلِ پاک اٹھانا، مدنی مدینے والے
میرا سینہ ہو مدینہ، میرے دل کا آبگینہ
بھی مدینہ ہی بنانا، مدنی مدینے والے
اے حبیبِ ربِ باری، ہے گناہ کا بوجھ بھاری
تم ہی حشر میں چُرانا، مدنی مدینے والے
میری عادتیں ہوں بہتر، بنوں سنتوں کا پیکر
مجھے متقی بنانا، مدنی مدینے والے
شاہا ایسا جذبہ پاؤں، کہ میں خوب سیکھ جاؤں
تیری سنتیں سکھانا، مدنی مدینے والے
تیرے نام پر ہو قربان، میری جان جانے جاناں
ہو نصیب سر کٹانا، مدنی مدینے والے
تیری سنتوں پر چل کر، میری روح جب نکل کر
چلے تم گلے لگانا، مدنی مدینے والے
ہے مبلغ آقا جتنے، کرو دور ان سے فتنے
بری موت سے بچانا، مدنی مدینے والے
میرے غوث کا وسیلہ، رہے شاد سب قبیلہ
انہیں خلد میں بسانا، مدنی مدینے والے
میرے جس قدر ہیں احباب، انہیں کر دے شاہا بیتاب
ملے عشق کا خزانہ، مدنی مدینے والے
میری آنے والی نسلیں، تیرے عشق ہی میں مچلیں
انہیں نیک تم بنانا، مدنی مدینے والے
ملے سنتوں کا جذبہ، میرے بھائی چھوڑیں مولا
سبھی داڑھیاں منڈوانا، مدنی مدینے والے
میرے جس قدر ہیں بہنیں، سبھی کاش برقعہ پہنیں
ہو کرم شاہِ زمانہ، مدنی مدینے والے
دو جہاں کے خزانے، دیے ہاتھ میں خدا نے
تیرا کام ہے لٹانا، مدنی مدینے والے
تیری غم میں کاش عطّار، رہے ہر گھڑی گرفتار
غمِ مال سے بچانا، مدنی مدینے والے
Conclusion
Mujhe Dar Pe Phir Bulana Madani Madine Wale is not just a Naat it is the cry of every soul that has felt the spiritual pull of Madinah Sharif and the undying love for Hazrat Muhammad Mustafa (SAW). Its deep emotional expression continues to inspire countless hearts, drawing them closer to the blessed Sunnah, the Seerat-e-Tayyaba, and the pure light of Islamic spirituality.
As this Naat “Mujhe Dar Pe Phir Bulana Madani Madine Wale” echoes in gatherings of Mehfil-e-Naat, it becomes a prayer on every lip: to once again witness the beauty of Masjid-e-Nabawi, to stand humbly in front of Rauza-e-Rasool, and to feel the mercy and love that flows from the City of the Prophet (SAW). May we all be among those fortunate ones who are called again to the sacred land of Madina Munawwara, with hearts full of faith and eyes brimming with love.