Hazrat Imam Hussain (AS) Emotional Noha by Nadeem Sarwar Tribute to Karbala
Few names in Islamic history echo with as much pain, love, and reverence as Hazrat Imam Hussain (AS) the symbol of resistance, truth, and sacrifice. The noha titled “Hazrat Imam Hussain (AS)”, beautifully recited by the legendary Nadeem Sarwar, takes listeners on an emotional journey to the burning sands of Karbala, where faith stood tall against tyranny, and the grandson of the Prophet Muhammad (PBUH) gave everything for Islam.
With powerful lyrics, heart-touching melody, and deep spiritual intensity, this “Hazrat Imam Hussain (AS)” noha encapsulates the essence of Ashura, reminding us of the unmatched bravery and steadfastness of the Ahlul Bayt (AS). Nadeem Sarwar’s soulful voice breathes life into every verse, awakening the hearts of mourners and connecting them deeply to the grief of Sayyid-us-Shuhada.
Whether you are a lifelong follower of Majlis traditions or someone seeking the spiritual depth behind Karbala’s tragedy, “Hazrat Imam Hussain (AS)” noha is an unforgettable recitation that resonates across generations. It is more than poetry it is a cry of love, loss, and unwavering devotion.
Hazrat Imam Hussain (AS) Noha lyrics Urdu
حسین… حسین…………
دائیں حسن، بائیں جعفری، پشت پناہی کو نبی
سر پہ خداوندِ جلی،
سینہ سپر، زہرا، علی
میرے مولا کو میسر ہے خزانہ کیسا
ان کا رتبہ ہے اماموں میں شاہانہ کیسا
کیسے کیسے ہیں نصیبوں میں اجالے ان کے
میرے آقا کو ملا ہے یہ گھرانہ کیسا
مرحبا، مرحبا، مصطفیٰ کی بات میں
باخدا، باخدا، ساری کائنات میں
گونج رہا ہے بس ایک نام…
حضرت امام حسین علیہ السلام.
لاکھوں درود آپ پر، لاکھوں سلام
حضرت امام حسین علیہ السلام
اللہ نے کیا خوب سنوارا ہے
سرکار کے آنگن میں اتارا ہے
ہر قوم کی آنکھوں کا ستارہ ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام
ہاں…
زندہ ہے حسین، اُس کا کردار بھی زندہ
کردار جو زندہ ہے تو معیار بھی زندہ
معیار جو زندہ ہے تو افکار بھی زندہ
افکار جو زندہ، تو عزادار بھی زندہ
ابتداء، ابتداء — مصطفیٰ کے دوش پر
انتہا، انتہا — نیزے پر بلند سر
گونج رہا ہے بس ایک نام
حضرت امام حسین علیہ السلام
قدم قدم، نگر نگر، یا حسین
دِلَم دِلَم، نظر نظر، یا حسین
صداقتوں کی راہگزر، یا حسین
کہو کہو، بہ چشمِ تر، یا حسین
یا حسین، یا حسین، یا حسین
تاریخ میں اِس جیسا نہ انسان ملے گا
ایسا نہ کوئی عاشقِ رحمن ملے گا
نہ ایسا کوئی شاہِ شہیداں ملے گا
نہ ایسا کوئی صبر کا سلطان ملے گا
لا الہ، لا الہ — لا الہ کا پاسباں
دین پناہ، دین پناہ — مصطفیٰ کا ترجماں
گونج رہا ہے بس ایک نام
حضرت امام حسین علیہ السلام
اللہ نے کیا خوب سنوارا ہے
سرکار کے آنگن میں اتارا ہے
ہر قوم کی آنکھوں کا ستارہ ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام
ہاں…
ہر دل میں غمِ سیّدِ ابرار ملے گا
ہر دور میں مظلوم کا غمخوار ملے گا
ہر قوم میں شبیر کا زوّار ملے گا
ہر ملک میں مولا کا عزادار ملے گا
ہر جگہ، ہر جگہ — مومنوں کے درمیان
ہے صدا، ہے صدا — دھڑکنوں کے درمیان
گونج رہا ہے بس ایک نام
حضرت امام حسین علیہ السلام
قدم قدم، نگر نگر، یا حسین
دِلَم دِلَم، نظر نظر، یا حسین
صداقتوں کی راہگزر، یا حسین
کہو کہو، بہ چشمِ تر، یا حسین
یا حسین، یا حسین، یا حسین
ہاتھوں میں علم تھامے وہ آتا ہے عزادار
ہاں مجلسوں، ماتم میں ہی رہتا ہے عزادار
ماں باپ حسینی ہوں تو بنتا ہے عزادار
مولا! یہ تمہارا ہے، تمہارا ہے عزادار
سلسلہ، سلسلہ —- یہ عزا کا سلسلہ
رابطہ، رابطہ —کربلا سے رابطہ
گونج رہا ہے بس ایک نام
حضرت امام حسین علیہ السلام
اللہ نے کیا خوب سنوارا ہے
سرکار کے آنگن میں اتارا ہے
ہر قوم کی آنکھوں کا ستارہ ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام
شبیر کا دل دیکھے ذرا، دیکھے زمانہ
واللہ، کہا تھا جو، وہی کر کے دکھایا
خوشنودیِ خالق میں بھرے گھر کو لٹایا
نیزے پہ بھی آیا، تو اُسی شان سے آیا
بادشاہ، بادشاہ —- ہے دلوں کا بادشاہ
چھا گیا، چھا گیا — دو جہاں پہ چھا گیا
گونج رہا ہے بس ایک نام
حضرت امام حسین علیہ السلام
قدم قدم، نگر نگر، یا حسین
دِلَم دِلَم، نظر نظر، یا حسین
صداقتوں کی راہگزر، یا حسین
کہو کہو، بہ چشمِ تر، یا حسین
یا حسین، یا حسین، یا حسین
ہاں…
کس شان سے مقتل میں قدم رکھتا ہے شبیر
کب جان کی پرواہ کیا کرتا ہے شبیر
ڈرتا ہے نہ جھکتا ہے، نہ گھبراتا ہے شبیر
لاکھوں بھی مخالف ہوں تو سچ کہتا ہے شبیر
حوصلہ، حوصلہ – شاہِ دین کا حوصلہ
سن صدا، سن صدا—- دو جہاں کی ہے صدا
گونج رہا ہے بس ایک نام
حضرت امام حسین علیہ السلام
اللہ نے کیا خوب سنوارا ہے
سرکار کے آنگن میں اتارا ہے
ہر قوم کی آنکھوں کا ستارہ ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام
ہاں آؤ کریں ہم شاہِ ابرار کا ماتم
اسلام کے محسن کا، مددگار کا ماتم
اصغر، علی اکبر کا اور انصار کا ماتم
زینب کا، سکینہ کا، علمدار کا ماتم
بے خطا، بے خطا — ہے غریبِ سیّدا
ہے وفا، ہے وفا —- تیرا غم جگہ جگہ
گونج رہا ہے بس ایک نام
حضرت امام حسین علیہ السلام
دائیں حسن، بائیں جعفری، پشت پناہی کو نبی
سر پہ خداوندِ جلی، سینہ سپر زہرا، علی
حضرت امام… حسین حسین
ہائے شاہِ مشرقین
اے دلِ زہرا کے چین
ہاں میرے مولا حسین
حضرت امام… حسین حسین
عالی مقام… حسین حسین
تم پہ سلام… حسین حسین.
حضرت امام… حسین حسین
ہائے شاہِ کربلا، آپ کا گھر لُٹ گیا
وعدہ وفا کر دیا
حضرت امام… حسین حسین.
شاہِ زماں… حسین حسین
زخمی بدن… حسین حسین.
تش نہ دہن… حسین حسین
حضرت امام… حسین حسین
Conclusion:
The noha “Hazrat Imam Hussain (AS)” is more than a poetic tribute it’s a heartfelt journey into the legacy of courage, sacrifice, and faith that continues to inspire generations. With every verse, it brings alive the pain of Karbala, the nobility of Imam Hussain (AS), and the undying love of his followers. Recited with deep emotion by Nadeem Sarwar, this noha resonates in every majlis and reminds us why Imam Hussain (AS) is not just remembered he is lived, mourned, and honored across cultures and continents.
This powerful recitation keeps the message of Ashura alive: to stand for truth even in the face of oppression. Through the noha’s “Hazrat Imam Hussain (AS)” soulful lyrics and spiritual depth, listeners connect not only with the history of Karbala, but with the values of humanity, resistance, and divine love. It is this emotional truth that makes “Hazrat Imam Hussain (AS)” a timeless and essential noha for every Muharram gathering.