Karbala Janey Walon 

Karbala Janey Walon  Heart-Wrenching Noha Tribute to Hazarat Abbas( AS)

If your heart seeks the sorrowful echoes of Karbala and your soul resonates with the timeless sacrifice of Imam Hussain (A.S), then “Karbala Janey Walon” by Mir Hassan Mir is a must-listen noha that captures the essence of loyalty, martyrdom, and mourning. With his powerful and emotional voice, Mir Hassan Mir breathes life into the pain of Ashura, connecting generations to the spiritual journey of the Martyrs of Karbala.

This noha Karbala Janey Walon isn’t just poetry it’s a heartfelt tribute to the companions of Imam Hussain (A.S), a spiritual reminder for every mourner during Muharram and Safar, and a call to those whose hearts long to walk in the sacred soil of Karbala, Iraq. Whether you’re attending a majlis, preparing for a ziyarat, or simply searching for soulful Shia nohas, “Karbala Janey Walon” delivers a deeply moving experience.

Karbala Janey Walon lyrics Urdu

کربلا، کربلا، کربلا، کربلا
اللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا زِیَارَةَ الْحُسَیْن (ع)
اللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا شِفَاعَةَ الْحُسَیْن (ع)

کربلا جانے والو، کربلا جانے والو
جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

سب سے پہلے انہیں کہنا مری طرف سے سلام
پھر یہ کہنا کہ تڑپتا ہے وطن میں وہ غلام
کچھ نہ لانا فقط اِذنِ زیارت لانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

کہنا ہاشم کی قمر سے کریں یہ اور کرم
دیکھنے ہیں مجھے روضوں کے بدلتے پرچم
اس برس ماہِ عزا، مجھ کو وہیں دکھلانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

کہنا حضرت سے وسائل کو کشادہ کر دیں
میرا اس سال ذرا رزق زیادہ کر دیں
بیٹیوں، بیٹوں کو ہمراہ مجھے لے آنا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

کربلا پیسوں سے جاتے نہیں، مجھ کو ہے خبر
تم بلاتے ہو تو خود مل جاتا ہے زادِ سفر
لکھا ہو آنا، تو لگتا نہیں ایک بھی آنا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

چھوٹے حضرت سے یہ کہنا کہ ہے عاشور قریب
یہ بھی کہنا کہ کیا اس سال بھی ترپے گا غریب؟
ان کا دینا ہے مجھے وہاں آ کے نذرانہ
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

ان سے کہنا نہیں مانگوں گا میں آسائش و چین
نیند جب آئے گی سو جاؤں گا بین الحرمین
کُف کو تکیہ بنا کر ہے مجھے سو جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

اربعین کی جو بنانے لگے فہرست آقا
نام میرا بھی سکینہ کے تصدق لکھنا
مجھ کو بھی کربلا پیدل نجف سے ہے جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

میں اگر شام گیا پہلے تو بولوں گا یہی
آپ کے اُمّو نے بھیجا ہے سکینہ پانی
تم ابوالفضل کے سَرتاب کا پانی لانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

کیسے زندہ رہے، بن آپ کے اصغر کی بہن؟
مر گئی پر نہ کھلی بچی کی گردن سے رسن
پُرسہ معصوم سکینہ کا ہے دینے آنا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

میر سجاد میر کو نوحے کا صلہ دے دینا
اس برس کرب و بلا آئے گا جب وہ مولا
آپ نذرانے کے بدلے میں نظر آ جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

جانے والو، درِ عباس پہ جب تم جانا
یہ عریضہ میرے مولا کو سنا کر آنا

Conclusion of Karbala Janey Walon:

“Karbala Janey Walon” by Mir Hassan Mir is more than just a noha it’s a soulful cry from the heart of every true lover of Imam Hussain (A.S). It carries the weight of history, the depth of sacrifice, and the tears of millions who remember the tragedy of Karbala with love and pain. “Karbala Janey Walon”In every verse, you’ll find a connection to the spirit of Ashura, to the loyalty of Hazrat Abbas (A.S), and to the unwavering stand of Imam Hussain (A.S) against oppression.

Whether you’re listening during the sacred days of Muharram, sharing it at a majlis, or reflecting alone in your moments of remembrance, this noha brings a deep emotional closeness to the Ahlul Bayt (A.S). It strengthens faith, revives love for the Imam of Karbala, and reminds us of the eternal message of standing for truth.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *